May 8, 2021

قرآن کریم > التوبة >surah 9 ayat 25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ 

حقیقت یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہاری بہت سے مقامات پر مد د کی ہے، اور (خاص طور پر) حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کردیاتھا، مگر وہ کثرت ِتعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی، اور زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم نے پیٹھ دکھا کر میدان سے رُخ موڑ لیا

 آیت 25: لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ: ‘‘(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہاری مدد کی ہے بہت سے مواقع پر اور (خاص طور پر) حنین کے دن‘‘

            جیسا کہ قبل ازیں بیان ہو چکا ہے‘ پہلے‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں نازل ہوا تھا‘ جبکہ اس سے پہلے غزوه حنین شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہو چکا تھا۔

            اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ: ‘‘جب تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہو گیا تھا‘‘

             معاملہ یوں نہیں تھا کہ لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ غزوه حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی‘ جو اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضور کے ہمراہ تھے‘ اور دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے تھے۔ مکہ سے شامل ہونے والوں میں اکثریت ان نو مسلموں کی تھی جو مکہ فتح ہو جانے کے بعد ایمان لائے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں کچھ مشرک بھی ہوں جو اب مسلمانوں کی رعایا ہونے کے باعث معاونین اور خادمین کی حیثیت سے لشکر میں شامل ہو گئے ہوں۔ مسلمانوں کی یہ لشکر کشی ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے خلاف تھی جو طائف اور اس کے ارد گرد کی شاداب وادیوں میں آباد تھے۔ مسلمان اس سے قبل بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفارکی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں کی زبان سے اپنی کثرت کے زعم میں یہ الفاظ نکل گئے کہ ‘‘آج مسلمانوں پر کون غالب آ سکتا ہے!‘‘ دوسری طرف ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے پہلے سے اپنے تیرانداز دستے پہاڑیوں اور گھاٹیوں پر تعینات کر رکھے تھے اور موزوں مقامات پر صف آرائی کر لی تھی۔ یہ لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ مسلمانوں کا لشکر جب وادی حنین میں پہنچا تو پہاڑیوں پر موجود تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔ لشکر نشیب میں تھا‘ تیر بلندی سے آ رہے تھے اور دونوں طرف سے آ رہے تھے۔ اس سے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور بارہ ہزار کا لشکر جرار تتر بتر ہو گیا۔ جب ہر اول دستے سے لوگ اضطراری کیفیت میں پلٹ کر بھاگے تو ریلے کی صورت میں بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ دھکیلتے چلے گئے۔ بعض روایا ت میں آتا ہے کہ رسول اللہ کے ساتھ صرف 30 یا 40 آدمی رہ گئے تھے۔ علامہ شبلی نے ‘‘سیرت النبی‘‘ میں یہی لکھا ہے کہ 30‘ 40 آدمی رہ گئے تھے‘ لیکن سید سلیمان ندوی نے بعد میں اپنے استاد کی رائے پر اختلافی نوٹ لکھا کہ تین سو یا چار سو آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے تھے۔ لیکن بارہ ہزار کے لشکر میں سے تین یا چار سو آدمیوں کا رہ جانا بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس صورتِ حال میں حضور اپنی سواری سے نیچے اتر آئے‘ آپ نے علم خود اپنے ہاتھ میں لیا اور بآوازِ بلند رجز پڑھا: «اَنَا النَّبِیُّ لا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِب» کہ میں نبی ہوں اس میں کوئی شک نہیں! (یعنی میں یقینا نبی ہوں‘ چاہے یہ بارہ ہزار لوگ میرا ساتھ دیں تب بھی‘ اور اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تب بھی)۔ اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں‘ یعنی میں عبد المطلب کا پوتا میدان جنگ میں بنفس نفیس موجود ہوں۔ پھر آپ نے لوگوں کو پکارا: «اِلَیَّ یَاعِبَادَ اللّٰہِ»! ‘‘اللہ کے بندو‘ میری طرف آؤ!‘‘اس کے بعد آپ نے قریب ہی موجود اپنے چچا حضرت عباس کو‘ جن کی آواز کافی بلند تھی‘ حکم دیا کہ انصار و مہاجرین کو پکاریں۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا: اصحابِ بدر کہاں ہو؟ اصحابِ شجرہ (بیعت رضوان والو) کہاں ہو؟ اس پر لوگ رسول اللہ کی طرف پلٹنا شروع ہوئے اور لشکر پھر سے اکٹھا ہوا۔ اس کے بعد ایک بھرپور جنگ لڑنے کے بعد مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔  آیت زیر نظر کا اشارہ اس پورے واقعہ کی طرف ہے۔

            فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ: ‘‘تو وہ (کثرت) تمہارے کچھ کام نہ آ سکی اور زمین پوری فراخی کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی‘ پھر تم پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔‘‘

UP
X
<>