April 13, 2021

قرآن کریم > التوبة >surah 9 ayat 5

فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُواْ الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُواْ لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ وَآتَوُاْ الزَّكَاةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 

چنانچہ جب حرمت والے مہینے گذر جائیں تو ان مشرکین کو (جنہوں نے تمہارے ساتھ بدعہدی کی تھی) جہاں بھی پاؤ قتل کر ڈالو، اور انہیں پکڑو، انہیں گھیرو، اور انہیں پکڑنے کیلئے ہر گھات کی جگہ تاک لگا کر بیٹھو۔ ہاں اگر وہ توبہ کریں ، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اُن کا راستہ چھوڑ دو۔ یقینا اﷲ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

آیت 5: فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ: ‘‘پھر جب یہ محترم مہینے گزر جائیں‘‘

            یہاں محترم مہینوں سے مراد وہ چار مہینے ہیں جن کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی۔ چار مہینے کی یہ مہلت یا امان غیر میعادی معاہدوں کے لیے تھی‘ جبکہ میعادی معاہدوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ اُن کی طے شدہ مدت تک پابندی کی جائے۔ لہٰذا جیسے جیسے کسی گروہ کی مدتِ امان ختم ہوتی جائے گی اس لحاظ سے اس کے خلاف اقدام کیا جائے گا۔ بہر حال جب یہ مہلت اور امان کی مدت گزر جائے :

           فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍج: ‘‘تو قتل کرو ان مشرکین کو جہاں پاؤ‘ اور پکڑو ان کو‘ اور گھیراؤ کرو ان کا‘ اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو۔‘‘

            ان الفاظ میں موجود سختی کو محسوس کرتے ہوئے اُس منظر اور ماحول کو ذہن میں لائیے جب یہ آیات بطور اعلانِ عام پڑھ کر سنائی جا رہی تھیں اور اندازہ کیجیے کہ ان میں سے ایک ایک لفظ اس ماحول میں کس قدر اہم اور پر تاثیر ہو گا۔ اس اجتماع میں مشرکین بھی موجود تھے اور ان کے لیے یہ اعلان اور الٹی میٹم یقینا بہت بڑی ذلت و رسوائی کا باعث تھا۔

            جب یہ چھ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ نے حضرت علی کو قافلہ حج کے پیچھے روانہ کیا اور انہیں تاکید کی کہ حج کے اجتماع میں میرے نمائندے کی حیثیت سے یہ آیات بطورِ اعلانِ عام پڑھ کر سنا دیں۔ اس لیے کہ عرب کے رواج کے مطابق کسی بڑی شخصیت کی طرف سے اگر کوئی اہم اعلان کرنا مقصود ہوتا تو اس شخصیت کا کوئی قریبی عزیز ہی ایسا اعلان کرتا تھا۔ جب حضرت علی قافلۂ حج سے جا کر ملے تو قافلہ پڑاؤ پر تھا۔ امیر قافلہ حضرت ابو بکر صدیق تھے۔ جونہی حضرت علی آپ سے ملے تو آپ نے پہلا سوال کیا: اَمِیرٌ اَوْ مَاْمُورٌ؟ یعنی آپ امیر بنا کر بھیجے گئے ہیں یا مامور؟ مراد یہ تھی کہ پہلے میری اور آپ کی حیثیت کا تعین کر لیا جائے۔ اگر آپ کو امیر بنا کر بھیجا گیا ہے تو میں آپ کے لیے اپنی جگہ خالی کر دوں اور خود آپ کے سامنے مامور کی حیثیت سے بیٹھوں۔ اس پر حضرت علی نے جواب دیا کہ میں مامور ہوں‘ امیر حج آپ ہی ہیں‘ البتہ حج کے اجتماع میں آیاتِ الٰہی پر مشتمل اہم اعلان رسول اللہ کی طرف سے میں کروں گا۔ اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضور نے صحابہ کرام کی تربیت بہت خوبصورت انداز میں فرمائی تھی اور آپ کی اسی تربیت کے باعث اُن کی جماعتی زندگی انتہائی منظم تھی۔ اور آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ یہ دنیا کی انتہائی غیر منظم قوم بن کر رہ گئے ہیں۔

            فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ: ‘‘پھر اگر وہ توبہ کر لیں‘ نماز قائم کریں اورزکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ یقینا اللہ بخشنے والا‘ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

            یعنی اگر وہ شرک سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائیں‘ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دینا قبول کر لیں تو پھر ان سے مواخذہ نہیں۔ 

UP
X
<>