February 22, 2024

فہرست مضامین > عقائد > ابواب توحید > اللہ تعالیٰ ہی سارے جہاں کا مالك ہے

اللہ تعالیٰ ہی سارے جہاں کا مالك ہے

پارہ
سورۃ
آیت
X
3
3 آل عمران
26

 قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ 

تشریح

کہو کہ : ’’ اے اﷲ ! اے اقتدار کے مالک! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اورجس کو چاہتاہے رسوا کر دیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے ۔ یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے

5
4 النساء
53

أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا 

تشریح

توکیا ان کو (کائنات کی) بادشاہی کا کچھ حصہ ملا ہوا ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیتے

6
5 المائدة
17

لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَآلُواْ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الأَرْضِ جَمِيعًا وَلِلّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَاء وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ 

تشریح

جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اﷲ ہی مسیح ابن مریم ہے، وہ یقینا کافر ہوگئے ہیں ۔ (اے نبی ! ان سے) کہہ دو کہ اگر اﷲ مسیح ابن مریم کو اور ان کی ماں کو اور زمین میں جتنے لوگ ہیں ان سب کو ہلا ک کرنا چاہے تو کون ہے جو اﷲ کے مقابلے میں کچھ کرنے کی ذرا بھی طاقت رکھتا ہو ؟ تمام آسمانوں اور زمین پر اور ان کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر تنہا ملکیت اﷲ ہی کی ہے۔ وہ جو چیز چاہتا ہے پید ا کرتا ہے۔ اور اﷲ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے

6
5 المائدة
76

قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلاَ نَفْعًا وَاللَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ 

تشریح

 (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : ’’ کیا تم اﷲ کے سوا ایسی مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے، اور نہ نقصان پہنچانے کی، جبکہ اﷲ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے ؟ ‘‘

14
16 النحل
73

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ شَيْئًا وَلاَ يَسْتَطِيعُونَ 

تشریح

اور یہ اﷲ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں سے کسی طرح کا رزق دینے کا نہ کوئی اختیار رکھتی ہیں ، نہ رکھ سکتی ہیں

15
17 الإسراء
111

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهُ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا

تشریح

اور کہو کہ : ’’ تمام تعریفیں اﷲ کی ہیں جس نے نہ کوئی بیٹا بنایا، نہ اُس کی سلطنت میں کوئی شریک ہے، اور نہ اُسے عاجزی سے بچانے کیلئے کوئی حمایتی درکار ہے۔‘‘ اور اُس کی ایسی بڑائی بیان کرو جیسی بڑائی بیان کرنے کا اُسے حق حاصل ہے

18
23 المؤمنون
88

قُلْ مَنْۢ بِيَدِهِ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

تشریح

کہو کہ : ’’ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اختیار ہے، اور جو پناہ دیتا ہے، اوراُس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا؟ بتاؤ اگر جانتے ہو۔‘‘

22
34 سبإ
22

قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ لا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلا فِي الأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ

تشریح

(اے پیغمبر ! ان کافروں سے) کہو کہ : ’’ پکارو اُن کو جنہیں تم نے (خدا کا شریک) مانا ہواہے۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرّہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، نہ اُن کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اﷲ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور نہ اُن میں سے کوئی اﷲ کا مددگار ہے

22
35 فاطر
13

يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لأَجَلٍ مُّسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ

تشریح

وہ رات کو دن میں داخل کر دیتا ہے، اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے، اور اُس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہے۔ (ان میں سے) ہر ایک کسی مقرر میعاد تک کیلئے رواں دواں ہے۔ یہ ہے اﷲ جو تمہارا پروردگار ہے، ساری بادشاہی اُسی کی ہے۔ اور اُسے چھوڑ کر جن (جھوٹے خداؤں ) کو تم پکارتے ہو، وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے

24
39 الزمر
43

أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ شُفَعَاء قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلا يَعْقِلُونَ

تشریح

بھلا کیا ان لوگوں نے اﷲ (کی اجازت) کے بغیر کچھ سفارشی گھڑ رکھے ہیں؟ (ان سے) کہو کہ : ’’ چاہے یہ نہ کوئی اختیار رکھتے ہوں ، نہ کچھ سمجھتے ہوں (پھر بھی تم اُنہیں سفارشی مانتے رہو گے؟)‘‘

25
43 الزخرف
86

وَلا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلاَّ مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

تشریح

اور یہ لوگ اُسے چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہیں ، اُنہیں کوئی سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، ہاں البتہ جن لوگوں نے حق بات کی گواہی دی ہو، اور اُنہیں اُس کا علم بھی ہو

26
48 الفتح
11

سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

تشریح

وہ دیہاتی جو (حدیبیہ کے سفر میں ) پیچھے رہ گئے تھے، اب وہ تم سے ضرور یہ کہیں گے کہ : ’’ ہمارے مال ودولت اور ہمارے اہل و عیال نے ہمیں مشغول کر لیا تھا، اس لئے ہمارے لئے مغفرت کی دُعا کر دیجئے۔‘‘ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں ۔ (ان سے) کہو کہ : ’’ اچھا تو اگر اﷲ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا فائدہ پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اﷲ کے سامنے تمہارے معاملے میں کچھ بھی کرنے کی طاقت رکھتا ہو؟ بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو، اﷲ اُس سے پوری طرح باخبر ہے

26
48 الفتح
14

وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاء وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاء وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا 

تشریح

اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت تمام تر اﷲ ہی کی ہے، وہ جس کو چاہے، بخش دے، اور جس کو چاہے، عذاب دے، اور اﷲ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے

UP
X
<>