February 22, 2024

فہرست مضامین > عقائد > ابواب الرسالت > رحمة للعالمين عليه الصلاة والسلام كا فرض منصبى

رحمة للعالمين عليه الصلاة والسلام كا فرض منصبى

پارہ
سورۃ
آیت
X
3
3 آل عمران
20

فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّيْنَ ءَاَسْلَمْتُمْ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ

تشریح

پھر بھی اگر یہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ : ’’ میں نے تو اپنا رخ اﷲ کی طرف کر لیا ہے، اور جنہوں نے میری اتباع کی ہے انہوں نے بھی ۔‘‘ اور اہلِ کتاب سے اور (عرب کے) ان پڑھ (مشرکین) سے کہہ دو کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو ہدات پا جائیں گے، اور اگر انہوں نے منہ موڑا تو تمہاری ذمہ داری صرف پیغام پہنچانے کی حد تک ہے، اور اﷲ تمام بندوں کو خود دیکھ رہا ہے

6
5 المائدة
67

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ 

تشریح

اے رسول ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کروگے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اﷲ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اﷲ تمہیں لوگوں (کی سازشوں ) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اﷲ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

7
5 المائدة
92

وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِينُ

تشریح

اور اﷲ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور (نافرمانی سے) بچتے رہو۔ اور اگر تم (اس حکم سے) منہ موڑوگے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صاف صاف طریقے سے (اﷲ کے حکم کی) تبلیغ کر دیں

7
5 المائدة
99

مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ 

تشریح

رسول پر سوائے تبلیغ کرنے کے کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے۔ اور جو کچھ تم کھلے بندوں کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو، اﷲ ان سب باتوں کو جانتا ہے

13
13 الرعد
40

وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاَغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ

تشریح

اور جس بات کی دھمکی ہم ان (کافروں ) کو دیتے ہیں ، چاہے اُس کا کوئی حصہ ہم تمہیں (تمہاری زندگی ہی میں ) دکھا دیں ، یا (اُس سے پہلے ہی) تمہیں دُنیا سے اُٹھا لیں ، بہر حال تمہارے ذمے تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے، اور حساب لینے کی ذمہ داری ہماری ہے

25
42 الشورى
48

فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا إِنْ عَلَيْكَ إِلاَّ الْبَلاغُ وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ الإِنسَانَ كَفُورٌ

تشریح

(اے پیغمبر !) یہ لو گ اگر پھر بھی منہ موڑیں تو ہم نے تمہیں ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجا ہے۔ تم پر بات پہنچادینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اور (انسان کا حال یہ ہے کہ) جب ہم اِنسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اُس پر اِترا جاتا ہے، اور اگر خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ایسے لوگوں کو کوئی مصیبت پیش آجاتی ہے تو وہی انسان پکا ناشکرا بن جاتا ہے

UP
X
<>