February 22, 2024

فہرست مضامین > جهاد > رسول الله صلى الله عليه وسلم كے غزوات كا ذكر > غزوه تبوك كا ذكر

غزوه تبوك كا ذكر

پارہ
سورۃ
آیت
X
10
9 التوبة
42-59

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لاَّتَّبَعُوكَ وَلَكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ

تشریح

اگر دنیا کا سامان کہیں قریب ملنے والا ہوتا، اور سفر درمیانہ قسم کا ہوتا تو یہ (منا فق لوگ) ضرور تمہارے پیچھے ہو لیتے لیکن یہ کٹھن فاصلہ اِن کیلئے بہت دور پڑگیا۔ اور اَب یہ اﷲ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکل جاتے۔ یہ لوگ اپنی جانوں کو ہلاک کر رہے ہیں ، اور اﷲ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں

عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُواْ وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ 

تشریح

 (اے پیغمبر !) اﷲ نے تمہیں معاف کر دیا ہے، (مگر) تم نے اِن کو (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) اجازت اس سے پہلے ہی کیوں دے دی کہ تم پر یہ بات کھل جاتی کہ کون ہیں جنہوں نے سچ بولا ہے، اور تم جھوٹوں کو بھی اچھی طرح جان لیتے

لاَ يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَن يُجَاهِدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ 

تشریح

جولوگ اﷲ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ اپنے مال و جان سے جہاد نہ کرنے کیلئے تم سے اجازت نہیں مانگتے، اور اﷲ متقی لوگوں کو خوب جانتا ہے

إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ 

تشریح

تم سے اجازت تو وہ لوگ مانگتے ہیں جو اﷲ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں ، اور وہ اپنے شک کی وجہ سے ڈانو اڈول ہیں

وَلَوْ أَرَادُواْ الْخُرُوجَ لأَعَدُّواْ لَهُ عُدَّةً وَلَكِن كَرِهَ اللَّهُ انبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُواْ مَعَ الْقَاعِدِينَ 

تشریح

اگر ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو اُس کیلئے انہوں نے کچھ نہ کچھ تیاری کی ہوتی۔ لیکن اﷲ نے اِن کا اُٹھنا پسند ہی نہیں کیا، اس لئے انہیں سست پڑا رہنے دیا، اور کہہ دیا گیا کہ جو (اپاہج ہونے کی وجہ سے) بیٹھے ہیں ، اُن کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو

لَوْ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلاَّ خَبَالاً ولأَوْضَعُواْ خِلاَلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ 

تشریح

اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے تو سوائے فساد پھیلانے کے تمہارے درمیان کوئی اور اضافہ نہ کرتے، اور تمہارے لئے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش میں تمہاری صفوں کے درمیان دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور خود تمہارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو اُن کے مطلب کی باتیں خوب سنتے ہیں ، اوراﷲ ان ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے

لَقَدِ ابْتَغَوُاْ الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُواْ لَكَ الأُمُورَ حَتَّى جَاء الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ 

تشریح

ان لوگوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہ تمہیں نقصان پہنچانے کیلئے معاملا ت کی الٹ پھیر کرتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ حق آیا، اﷲ کا حکم غالب ہوا، اور یہ کڑھتے رہ گئے

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ ائْذَن لِّي وَلاَ تَفْتِنِّي أَلاَ فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُواْ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ 

تشریح

اور انہی میں وہ صاحب بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ : ’’ مجھے اجازت دیجئے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالئے۔ ‘‘ ارے فتنے ہی میں تو یہ خود پڑے ہوئے ہیں ! اور یقین رکھو کہ جہنم سارے کافروں کو گھیرے میں لینے والی ہے

إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُواْ قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّواْ وَّهُمْ فَرِحُونَ 

تشریح

اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں دکھ ہوتا ہے، اور اگر تم پر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتے ہیں کہ : ’’ ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کر لیا تھا۔ ‘‘ اور (یہ کہہ کر) بڑے خوش خوش واپس چلے جاتے ہیں

قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلاَنَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ 

تشریح

کہہ دو کہ : ’’ اﷲ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے، ہمیں اُس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اﷲ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ ‘‘

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا فَتَرَبَّصُواْ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ 

تشریح

کہہ دو کہ :’’ تم ہمارے لئے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ (آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اﷲ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں ۔ ‘‘

قُلْ أَنفِقُواْ طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ 

تشریح

کہہ دو کہ : ’’ تم اپنا مال چاہے خوشی خوشی چندے میں دو، یا بد دلی سے وہ تم سے ہر گز قبو ل نہیں کیا جائے گا۔ تم ایسے لوگ ہو جو مسلسل نافرمانی کرتے رہے ہو۔ ‘‘

وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلاَّ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلاَةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى وَلاَ يُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ كَارِهُونَ 

تشریح

اور ان کے چندے قبول کئے جانے میں رکاوٹ کی کوئی اور وجہ اس کے سو انہیں ہے کہ انہوں نے اﷲ اور اُس کے رسول کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا ہے، اور یہ نماز میں آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں ، اور (کسی نیکی میں ) خرچ کرتے ہیں تو برا مانتے ہوئے خرچ کرتے ہیں

فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ 

تشریح

تمہیں ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیئے۔ اﷲ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب دے، اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے

وَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنكُمْ وَمَا هُم مِّنكُمْ وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ

تشریح

یہ اﷲ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں ، بلکہ وہ ڈرپوک لوگ ہیں

لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَأً أَوْ مَغَارَاتٍ أَوْ مُدَّخَلاً لَّوَلَّوْاْ إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ

تشریح

اگر ان کو کوئی پناہ گاہ مل جاتی، یا کسی قسم کے غار مل جاتے، یا گھس بیٹھنے کی اور کوئی جگہ، تو یہ بے لگام بھاگ کر اُدھر ہی کا رُخ کر لیتے

وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُواْ مِنْهَا رَضُواْ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْاْ مِنهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ 

تشریح

اور انہی (منافقین) میں وہ بھی ہیں جو صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں آپ کو طعنہ دیتے ہیں۔ چنانچہ اگر اُنہیں صدقات میں سے (ان کی مرضی کے مطابق) دے دیا جائے تو راضی ہو جاتے ہیں ، اور اگر اُن میں سے انہیں نہ دیاجائے تو ذرا سی دیر میں ناراض ہوجاتے ہیں

وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ 

تشریح

جو کچھ بھی انہیں اﷲ اور اس کے رسول نے دے دیا تھا، کیا اچھا ہوتا کہ یہ اُس پر راضی رہتے، اور یہ کہتے کہ : ’’ اﷲ ہمارے لئے کافی ہے، آئندہ اﷲ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا، اور اُس کا رسول بھی ! ہم تو اﷲ ہی سے لو لگائے ہوئے ہیں ۔ ‘‘

10
9 التوبة
81-83

فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُواْ أَن يُجَاهِدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُواْ لاَ تَنفِرُواْ فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ 

تشریح

جن لوگوں کو (غزوۂ تبوک سے) پیچھے رہنے دیا گیا تھا، وہ رسول اﷲ کے جانے کے بعد اپنے (گھروں میں ) بیٹھے رہنے سے بڑے خوش ہوئے، اور ان کو یہ بات ناگوار تھی کہ وہ اﷲ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کریں ، اور انہوں نے کہا تھا کہ : ’’ اس گرمی میں نہ نکلو ! ‘‘ کہو کہ : ’’ جہنم کی آگ گرمی میں کہیں زیادہ سخت ہے ! ‘‘ کاش ! اِن کو سمجھ ہوتی !

فَلْيَضْحَكُواْ قَلِيلاً وَلْيَبْكُواْ كَثِيرًا جَزَاء بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ 

تشریح

اب یہ لوگ (دنیا میں ) تھوڑا بہت ہنس لیں ، اور پھر (آخرت میں ) خوب روتے رہیں ، کیونکہ جو کچھ کمائی یہ کرتے رہے ہیں ، اُس کا یہی بدلہ ہے

فَإِن رَّجَعَكَ اللَّهُ إِلَى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخْرُجُواْ مَعِيَ أَبَدًا وَلَن تُقَاتِلُواْ مَعِيَ عَدُوًّا إِنَّكُمْ رَضِيتُم بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُواْ مَعَ الْخَالِفِينَ 

تشریح

 (اے پیغمبر !) اس کے بعد اگر اﷲ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کے پاس واپس لے آئے، اور یہ (کسی اور جہاد میں ) نکلنے کیلئے تم سے اجازت مانگیں تو ان سے کہہ دینا کہ : ’’ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں چل سکو گے، اور میرے ساتھ مل کر کسی دُشمن سے کبھی نہیں لڑسکو گے۔ تم نے پہلی بار بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا، لہٰذا اب بھی انہی کے ساتھ بیٹھ رہو جن کو (کسی معذوری کی وجہ سے) پیچھے رہنا ہے۔ ‘‘

10
9 التوبة
90-96

وَجَاء الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُواْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ 

تشریح

اور دیہاتیوں میں سے بھی بہانہ باز لوگ آئے کہ اُن کو (جہاد سے) چھٹی دی جائے، اور (اس طرح) جن لوگوں نے اﷲ اور اُس کے رسول سے جھوٹ بولاتھا، وہ سب بیٹھ رہے۔ ان میں سے جنہوں نے کفر (مستقل طور پر) اپنالیا ہے، اُن کیلئے دردناک عذاب ہے

لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاء وَلاَ عَلَى الْمَرْضَى وَلاَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُواْ لِلّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 

تشریح

کمزور لوگوں پر (جہاد میں نہ جانے کا) کوئی گناہ نہیں ، نہ بیماروں پر، اور نہ اُن لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے، جبکہ وہ اﷲ اور اُس کے رسول کیلئے مخلص ہوں ۔ نیک لوگوں پر کوئی الزام نہیں، اور اﷲ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّواْ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلاَّ يَجِدُواْ مَا يُنفِقُونَ 

تشریح

اور نہ اُن لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس اس غرض سے آئے کہ تم اُنہیں کوئی سواری مہیا کردو، اور تم نے کہا کہ : ’’ میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کر سکوں ۔ ‘‘ تو وہ اس حالت میں واپس گئے کہ اُن کی آنکھیں اس غم میں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں کہ اُن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔

إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاء رَضُواْ بِأَن يَكُونُواْ مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ 

تشریح

اِلزام تو اُن لوگوں پر ہے جو مال دار ہونے کے باوجود تم سے اجازت مانگتے ہیں ۔ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوگئے۔ اور اﷲ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے، اس لئے انہیں حقیقت کا پتہ نہیں ہے

يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُل لاَّ تَعْتَذِرُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ 

تشریح

 (مسلمانو !) جب تم لوگ (تبوک سے) واپس ان (منافقوں ) کے پاس جاؤ گے تو یہ تمہارے سامنے (طرح طرح کے) عذر پیش کریں گے۔ (اے پیغمبر !) ان سے کہہ دینا کہ : ’’ ہم ہر گز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے۔ اﷲ نے ہمیں تمہارے حالات سے اچھی طرح باخبر کردیا ہے۔ اور آئندہ اﷲ بھی تمہارا طرزِ عمل دیکھے گا، اور اُس کا رسول بھی۔ پھر تمہیں لوٹا کر اُس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کو چھپی اور کھلی تمام باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ ‘‘

سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُواْ عَنْهُمْ فَأَعْرِضُواْ عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاء بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ 

تشریح

جب تم اِ ن کے پاس واپس جاؤ گے تو یہ لوگ تمہارے سامنے اﷲ کی قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم اِن سے درگذر کرو۔ لہٰذا تم بھی اِن سے در گذر کر لینا۔ یقین جانو یہ سراپا گندگی ہیں ، اور جو کمائی یہ کرتے رہے ہیں ، اُس کی وجہ سے ان کا ٹھکانا جہنم ہے

يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْاْ عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْاْ عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ

تشریح

یہ تمہارے سامنے اس لئے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم اِن سے راضی ہو جاؤ، حالانکہ اگرتم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اﷲ تو ایسے نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا

UP
X
<>