February 22, 2024

فہرست مضامین > جهاد > رسول الله صلى الله عليه وسلم كے غزوات كا ذكر > غزوه احد

غزوه احد

پارہ
سورۃ
آیت
X
4
3 آل عمران
121-127

وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 

تشریح

(اے پیغمبر ! جنگِ احد کو وہ وقت یاد کرو) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو جنگ کے ٹھکانوں پر جمارہے تھے، اور اﷲ سب کچھ سننے جاننے والا ہے ۔

إِذْ هَمَّت طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

تشریح

جب تمہی میں کے دو گروہوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ ہمت ہار بیٹھیں، حالانکہ اﷲ ان کا حامی و ناصر تھا، اور مومنوں کو اﷲ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے ۔

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ 

تشریح

اﷲ نے تو (جنگ ِ) بدر کے موقع پر ایسی حالت میں تمہاری مدد کی تھی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے ۔ لہٰذا (صرف) اﷲ کا خوف دل میں رکھو، تاکہ تم شکر گزار بن سکو ۔

إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلاَثَةِ آلاَفٍ مِّنَ الْمَلآئِكَةِ مُنزَلِينَ 

تشریح

جب (بدر کی جنگ میں ) تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ :’’ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کو بھیج دے ؟

بَلَى إِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلافٍ مِّنَ الْمَلآئِكَةِ مُسَوِّمِينَ

تشریح

ہاں ! بلکہ اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو اور وہ لوگ اپنے اسی ریلے میں اچانک تم تک پہنچ جائیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج دے گا جنہوں نے اپنی پہچان نمایاں کی ہوئی ہوگی ۔ ‘‘

وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلاَّ بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ

تشریح

اﷲ نے یہ انتظام صرف اس لئے کیا تھا تاکہ تمہیں خوشخبری ملے، اور اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہو، ورنہ فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں صرف اﷲ کے پاس سے آتی ہے جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے، تمام تر حکمت کا بھی مالک

 لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُواْ خَآئِبِينَ 

تشریح

(اور جنگِ بدر میں یہ مدد اﷲ نے اس لئے کی) تاکہ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ان کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ دے، یا ان کو ایسی ذلت آمیز شکست دے کہ وہ نامراد ہو کر واپس چلے جائیں ۔

4
3 آل عمران
140-143

اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُه وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ

تشریح

اگر تمہیں ایک زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی اسی جیسا زخم پہلے لگ چکا ہے ۔ یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور مقصد یہ تھا کہ اﷲ ایمان والوں کو جانچ لے، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے، اور اﷲ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَمْحَقَ الْكٰفِرِيْنَ

تشریح

اور مقصد یہ (بھی) تھا کہ اﷲ ایمان والوں کو میل کچیل سے نکھار کر رکھ دے اور کافروں کو ملیا میٹ کر ڈالے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ

تشریح

بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (یونہی) جنت کے اندر جا پہنچو گے ؟ حالانکہ ابھی تک اﷲ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں

وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَـمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ ۠ فَقَدْ رَاَيْتُمُوْهُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ

تشریح

اور تم تو خود موت کا سامنا کرنے سے پہلے (شہادت کی) موت کی تمنا کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ اب تم نے کھلی آنکھوں اسے دیکھ لیا ہے

4
3 آل عمران
152-155

وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ 

تشریح

اور اﷲ نے یقینا اس وقت اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا جب تم دشمنوں کو اسی کے حکم سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور حکم کے بارے میں باہم اختلاف کیا اور جب اﷲ نے تمہاری پسندیدہ چیز تمہیں دکھائی تو تم نے (اپنے امیر کا) کہنا نہیں مانا ۔ تم میں سے کچھ لوگ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے، اور کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے ۔ پھر اﷲ نے ان سے تمہارا رُخ پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے ۔ البتہ اب وہ تمہیں معاف کر چکا ہے، اور اﷲ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْونَ عَلٰٓي اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ فِيْٓ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّـۢا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ اَصَابَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ

تشریح

(وہ وقت یاد کرو) جب تم منہ اٹھائے چلے جارہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے، چنانچہ اﷲ نے تمہیں (رسول کو) غم (دینے) کے بدلے (شکست کا) غم دیا، تاکہ آئندہ تم زیادہ صدمہ نہ کیا کرو، نہ اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے، اور نہ کسی اور مصیبت پر جو تمہیں پہنچ جائے ۔ اور اﷲ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے

ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّن بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَى طَآئِفَةً مِّنكُمْ وَطَآئِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الأَمْرِ مِن شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ يُخْفُونَ فِي أَنفُسِهِم مَّا لاَ يُبْدُونَ لَكَ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَا هُنَا قُل لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحَّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

تشریح

پھر اس غم کے بعد اﷲ نے تم پر طمانیت نازل کی، ایک اُونگھ جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی ! اور ایک گروہ وہ تھا جسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی ۔ وہ لوگ اﷲ کے بارے میں ناحق ایسے گمان کر رہے تھے جو جہالت کے خیالات تھے ۔ وہ کہہ رہے تھے : ’’ کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے ؟ ‘‘ کہہ دو کہ : ’’ اختیار تو تمامتر اﷲ کا ہے ۔ ‘‘ یہ لوگ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپاتے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے ۔ کہتے ہیں کہ : ’’ اگر ہمیں بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے ۔ ‘‘ کہہ دو کہ : ’’ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا مقدر میں لکھا جا چکا تھا وہ خود باہر نکل کر اپنی قتل گاہوں تک پہنچ جاتے ۔ اور یہ سب اس لئے ہوا تاکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اﷲ اسے آزمائے، اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کا میل کچیل دور کردے ۔ اﷲ دلوں کے بھید خوب جانتا ہے

إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُواْ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ

تشریح

جن لوگوں نے اُس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، درحقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کر دیا تھا ۔ اور یقین رکھو کہ اﷲ نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ یقینا اﷲ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے

4
3 آل عمران
165-171

أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ 

تشریح

جب تمہیں ایک ایسی مصیبت پہنچی جس سے دُگنی تم (دشمن کو) پہنچا چکے تھے تو کیا تم ایسے موقع پر یہ کہتے ہو کہ ’’ یہ مصیبت کہاں سے آگئی ؟‘‘ کہہ دو کہ : ’’ یہ خود تمہاری طرف سے آئی ہے ۔ ‘‘ بیشک اﷲ ہر چیز پر قادر ہے

وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ

تشریح

اور تمہیں جو مصیبت اس دن پہنچی جب دونوں لشکر ٹکرائے تھے، وہ اﷲ کے حکم سے پہنچی، تاکہ وہ مومنوں کو بھی پرکھ کر دیکھ لے

وَلْيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُواْ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ قَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُواْ قَالُواْ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَاكُمْ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَانِ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ

تشریح

اور منافقین کو بھی دیکھ لے ۔ اور اِن (منافقوں ) سے کہا گیا تھا کہ ’’ آؤ اﷲ کے راستے میں جنگ کر و یا دِفاع کرو ‘‘ تو انہوں نے کہا تھا کہ : ’’ اگر ہم دیکھتے کہ (جنگ کی طرح) جنگ ہوگی تو ہم ضرور آپ کے پیچھے چلتے ‘‘ اُس دن (جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے) وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے ۔ وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے تھے جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی ۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اﷲ اسے خوب جانتا ہے

الَّذِينَ قَالُواْ لإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُواْ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا قُلْ فَادْرَؤُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

تشریح

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے (شہید) بھائیوں کے بارے میں بیٹھے بیٹھے یہ باتیں بناتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے ۔ کہہ دو کہ : ’’ اگر تم سچے ہو تو خود اپنے آپ ہی سے موت کو ٹال دینا ۔ ‘‘

وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

تشریح

اور (اے پیغمبر !) جو لوگ اﷲ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہر گز مردہ نہ سمجھنا ۔ بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے

 فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلاَّ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ 

تشریح

اﷲ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے، وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں ) شامل نہیں ہوئے، اُن کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آکر ملیں گے تو) نہ ان پر کوئی خوف ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے

يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ 

تشریح

وہ اﷲ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اﷲ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

UP
X
<>