April 13, 2021

قرآن کریم > فاطر >sorah 35 ayat 1

الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلائِكَةِ رُسُلاً أُولِي أَجْنِحَةٍ مَّثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاء إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

تمام تر تعریف اﷲ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے اُن فرشتوں کو پیغام لے جانے کیلئے مقرر کیا ہے، جو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں ۔ وہ پیدائش میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کر دیتا ہے۔ بیشک اﷲ ہر چیز کی قدرت رکھنے والا ہے

آیت ۱    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ: ’’کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا‘‘

        فَاطِر کے لغوی معنی ہیں: عدم کے پردے کو چاک کر کے کسی چیز کو وجود بخشنے والا۔ یہاں پر ایک اہم لغوی نکتہ ضمنی طور پر نوٹ کر لیں کہ ’’ف‘‘ سے شروع ہونے والے عربی کے اکثر الفاظ میں توڑنے، چاک کرنے، پھاڑنے وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مثلاً فَطَرَ کے علاوہ فَلَقَ، فَرَطَ، فَلَحَ، فَتَحَ، فَصَلَ، فَتَرَ وغیرہ الفاظ میں یہی مفہوم پایا جاتا ہے۔ (فَترۃ الوحی سے وہ عرصہ مراد ہے جس میں وحی رکی رہی، یعنی وحی کا تسلسل ٹوٹ گیا اور فترۃ من الرسل سے مراد چھ سو برس کا وہ زمانہ ہے جس کے دوران پیغمبروں کا سلسلہ رکا رہا۔)

        جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا اُولِیْٓ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ: ’’ فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا، جو دو دو، تین تین اور چار چار َپروں والے ہیں۔‘‘

        فرشتوں کے پروں کی ہیئت اور کیفیت کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن تمثیل کے انداز میں سمجھنے کے لیے مختلف اقسام کے طیاروں کا تصور ذہن میں رکھا جا سکتا ہے، جیسے کسی طیارے میں دو انجن ہوتے ہیں اور کسی میں چار۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مختلف فرشتوں کو اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق مختلف نوعیت کی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔

        یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ: ’’اللہ اضافہ کر تا رہتا ہے تخلیق میں جو چاہتا ہے۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

        آج سائنس بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ تخلیق کا سلسلہ جاری و ساری ہے، مسلسل نئے نئے ستارے وجود میں آرہے ہیں اور نئی نئی کہکشائیں بن رہی ہیں۔ اقبال نے اس نکتے کو یوں بیان کیا ہے:

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید        کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کُن فیکُون

UP
X
<>