April 13, 2021

قرآن کریم > الكهف >surah 18 ayat 2

قَـيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَـنًا 

ایک سیدھی سیدھی کتاب جو اُس نے اس لئے نازل کی ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف سے ایک سخت عذاب سے آگاہ کرے، اور جو مومن نیک عمل کرتے ہیں اُن کو خوشخبری دے کہ اُن کو بہترین اَجر ملنے والا ہے

آیت ۲:  قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ:   «(یہ کتاب) بالکل سیدھی ہے، تا کہ وہ خبردار کرے ایک بہت بڑی آفت سے اُس کی طرف سے»

            یعنی نبی اکرم پر نزول ِقرآن کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کو ایک بہت بڑی آفت کے بارے میں خبردار کر دیں۔ یہاں لفظ  بَاْسًا بہت اہم ہے۔ یہ لفظ و احد ہو تو اس کا مطلب جنگ ہوتا ہے اور جب بطور جمع آئے تو اس کے معنی سختی، مصیبت، بھوک، تکلیف وغیرہ کے ہوتے ہیں ۔ جیسے سورۃ البقرۃ کی آیت:  ۱۷۷ (آیت البر) میں یہ لفظ بطور واحد بھی آیا ہے اور بطور جمع بھی:  وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ۔ چنانچہ وہاں دونوں صورتوں میں اس لفظ کے معنی مختلف ہیں: «الْْبَاْسَآءِ» کے معنی فقر و تنگدستی اور مصائب و تکالیف کے ہیں جبکہ «وَحِیْنَ الْبَاْسِ» سے مراد جنگ کا وقت ہے۔

            بہر حال آیت زیر نظر میں «بَاْسًا شَدِیْدًا» سے ایک بڑی آفت بھی مراد ہو سکتی ہے اور بہت شدید قسم کی جنگ بھی۔ آفت کے معنی میں اس لفظ کا اشارہ اس دجالی فتنہ کی طرف ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے خبردار نہ کیا ہو، کیونکہ یہ فتنہ ایک مؤمن کے لیے سخت ترین امتحان ہو گا اور پوری انسانی تاریخ میں اس فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے۔

            دوسری طرف اس لفظ (بَاْسًا شَدِیْدًا) کو اگر خاص طور پر جنگ کے معنی میں لیا جائے تو اس سے «المَلحَمۃُ الْعُظمٰی» مراد ہے اور اس کا تعلق بھی فتنہ دجال ہی سے ہے۔کتب احادیث (کتاب الفتن، کتاب آثار القیامۃ، کتاب الملاحم وغیرہ) میں اس خوفناک جنگ کا ذکر بہت تفصیل سے ملتا ہے۔ عیسائی روایات میں اس جنگ کو «ہرمجدون» (Armageddon) کا نام دیا گیا ہے۔ بہر حال حضرت مسیح کے تشریف لانے اور ان کے ہاتھوں دجال کے قتل کے بعد اس فتنہ یا جنگ کا خاتمہ ہو گا۔

            بہت سی احادیث میں ہمیں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ دجالی فتنہ کے ساتھ سورۃ الکہف کی ایک خاص مناسبت ہے اور اس فتنہ کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اس سورۃ کے ساتھ ذہنی اور قلبی تعلق قائم کرنا بہت مفید ہے۔ اس مقصد کے لیے احادیث میں جمعہ کے روز سورۃ الکہف کی تلاوت کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اوراگر پوری سورت کی تلاوت نہ کی جا سکے تو کم از کم اس کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت کرنا بھی مفیدبتایاگیا ہے۔

            یہاں پر دجالی فتنہ کی حقیقت کے بارے میں کچھ وضاحت بھی ضروری ہے۔ «دجل» کے لفظی معنی دھوکہ اور فریب کے ہیں ۔ اس مفہوم کے مطابق «دجال» ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بہت بڑا دھوکے باز ہو، جس نے دوسروں کو دھوکا د ینے کے لیے جھوٹ اور فریب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو۔ اس لیے نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کو بھی دجال کہا گیا ہے۔ چنانچہ نبی اکرم نے جن تیس دجالوں کی پیدائش کی خبر دی ہے ان سے جھوٹے نبی ہی مراد ہیں ۔

            دجالیت کے اس عمومی مفہوم کو مدنظر رکھا جائے تو آج کے دور میں مادہ پرستی بھی ایک بہت بڑا دجالی فتنہ ہے۔ آج لوگوں کے اذہان و قلوب، نظریات و افکار اور اخلاق و اقدار پر مادیت کا اس قدر غلبہ ہو گیا ہے کہ انسان اللہ کو بھول چکا ہے۔ آج وہ مسبب الاسباب کو بھول کر مادی اسباب پر توکل کرتا ہے۔ وہ قرآن کے اس فرمان کو یکسر فراموش کر چکا ہے کہ:  وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ.   (آل عمران) یعنی دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے، جبکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ آخرت کی زندگی پر پڑے ہوئے دنیا اور اس کی مادیت کے پردے سے دھوکا کھا کر انسان نے دُنیوی زندگی ہی کو اصل سمجھ لیا ہے، لہٰذا اس کی تمام دوڑ دھوپ اسی زندگی کے لیے ہے ۔ اسی زندگی کے مستقبل کو سنوارنے کی اس کو فکر ہے، اور یوں وہ مادہ پرستی کے دجالی فتنے میں گرفتار ہو چکا ہے۔

            اس کے علاوہ دجال اور دجالی فتنے کا ایک خصوصی مفہوم بھی ہے۔ اس مفہوم میں اس سے مراد ایک مخصوص فتنہ ہے جو قرب قیامت کے زمانے میں ایک خاص شخصیت کی وجہ سے ظہور پذیر ہو گا۔ اس بارے میں کتب ِاحادیث میں بڑی تفصیلات موجود ہیں، لیکن بعض روایات میں کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں اور تضادات بھی۔ ان کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ علمی سطح پر غور و فکر کی ضرورت ہے، کیونکہ ظاہری طور پر نظر آنے والے تضادات میں مطابقت کے پہلوؤں کو تلاش کرنا اہل ِعلم کا کام ہے۔ بہر حال یہاں ان تفاصیل کا ذکر اور ان پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں۔ اس موضوع کے بارے میں یہاں صرف اس قدر جان لینا ہی کافی ہے کہ رسول اللہ نے قرب قیامت کے زمانے میں دجال کے ظاہر ہونے اور ایک بہت بڑا فتنہ اٹھانے کے بارے میں خبریں دی ہیں۔ جو حضرات اس حوالے سے تفصیلی معلومات چاہتے ہوں وہ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب «تفسیر سورۃ الکہف» کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس موضوع پر «دنیا کی حقیقت» کے عنوان سے میری ایک تقریر کی ریکارڈنگ بھی دستیاب ہے، جس میں میں نے سورۃ الکہف کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا ہے۔

            وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا حَسَنًا:   «اور (تاکہ) وہ بشارت دے اُن اہل ایمان کو جو نیک عمل کرتے ہوں کہ ان کے لیے ہو گا بہت اچھا بدلہ۔»

UP
X
<>