May 8, 2021

قرآن کریم > الـمجادلـة >sorah 58 ayat 12

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰكُمْ صَدَقَةً ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاَطْهَرُ ۭ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

اے ایمان والو ! جب تم رسول سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس تنہائی کی بات سے پہلے کچھ صدقہ کر دیا کرو۔ یہ طریقہ تمہارے حق میں بہتر اور زیادہ ستھرا طریقہ ہے۔ ہاں اگر تمہارے پاس (صدقہ کرنے کیلئے) کچھ نہ ہوتو اﷲ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے

آيت 12:  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً:  «اے اهلِ ايمان! جب تم رسول (صلى الله عليه وسلم) سے تخليه ميں كوئى بات كرنا چاهو تو اپنى اس بات چيت سے پهلے كچھ صدقه دے ديا كرو».

اس حكم كا پس منظر يه هے كه منافقين ميں سے اكثر لوگ وقتًا فوقتًا بلاوجه حضور صلى الله عليه وسلم سے تخليه ميں بات كرنے كا تقاضا كرتے تھے. حضور صلى الله عليه وسلم مروت كے باعث هر كسى كى بات مان تو ليتے، ليكن منافقين كا يه طرزِ عمل آپ صلى الله عليه وسلم كے ليے زحمت كا باعث تھے. يه لوگ حضور صلى الله عليه وسلم سے ايسى ملاقاتيں محض اپنى اهميّت اُجاگر كرنے كے ليے كرتے تھے، تاكه لوگ ديكھيں كه حضور صلى الله عليه وسلم سے عليحدگى ميں بات كرنے والا يه شخص حضور صلى الله عليه وسلم كے بهت قريب هے اور حضور صلى الله عليه وسلم كو اس پر بهت اعتماد هے. جيسے رئيس المنافقين عبد الله بن اُبى كا معمول تھا كه حضور صلى الله عليه وسلم جب خطبه جمعه كے ليے كھڑے هوتے تو وه محض اپنى چودھراهٹ جتانے كے ليے فورًا اگلى صف ميں كھڑا هو جاتا اور حاضرين سے مخاطب هو كر كهتا كه لوگو! يه الله كے رسول هيں، ان كى بات غور سے سنو! يه شخص مدينه كے سب سے بڑے قبيلے خزرج كا سردار تھا. حضور صلى الله عليه وسلم كى هجرت سے قبل اهلِ مدينه كا اتفاق هو چكا تھا كه مدينه ميں ايك مستحكم رياستى نظام قائم كيا جائے تاكه روز روز كى جنگوں اور باهمى خون ريزى سے ان كى جان چھوٹ جائے. اس كے ليے عبد الله بن اُبى كو بادشاه بنانے كا فيصله هو چكا تھا اور اس كے ليے تاج بھى تيار هو چكا تھا. بس رسمِ تاج پوشى كا انعقاد باقى تھا كه حضور صلى الله عليه وسلم مدينه تشريف لے آئے اور آتے هى مدينه كے بے تاج بادشاه بن گئے. اس طرح آپ صلى الله عليه وسلم كى وجه سے عبد الله بن اُبى كى بادشاهت كا خواب نا تمام ره گيا. حالات كا رخ ديكھتے هوئے اس نے ظاهرى طور پر تو مسلمانى كا لباده اوڑھ ليا ليكن عمر بھر حضور صلى الله عليه وسلم كى مخالفت كا كوئى موقع اُس نے هاتھ سے نه جانے ديا. بهرحال حالات كى مجبورى تھى كه ايسا شخص بھى حضور صلى الله عليه وسلم سے اپنى قربت جتلانے اور اپنى خصوصى حيثيت نماياں كرنے كے ليے جمعه كے اجتماع ميں يه ڈرامه رچانا ضرورى سمجھتا تھا.

منافقين كے اس طرزِ عمل كى حوصله شكنى كرنے كے ليے الله تعالى نے اس حكم كے ذريعے حضور صلى الله عليه وسلم سے عليحدگى ميں بات كرنے پر ايك طرح كا ٹيكس عائد كر ديا كه اگر تمهارا حضور صلى الله عليه وسلم سے عليحدگى ميں بات كرنا ايسا هى ضرورى هے تو پهلے اپنے مال ميں سے كچھ صدقه دو اور پھر آ كر اس مقصد كے ليے حضور صلى الله عليه وسلم سے وقت مانگو. منافقين چونكه انفاق سے گھبراتے هيں اس ليے اس حكم كے بعد ان ميں سے كسى ايك شخص نے بھى صدقه دے كر حضور صلى الله عليه وسلم سے عليحدگى ميں بات كرنے كى درخواست نه كى. يه حكم البته بهت تھوڑى دير نافذ رها اور جلد هى اسے اگلى آيت كے ذريعے منسوخ كر ديا گيا. حضرت على رضى الله عنه كهتے هيں كه ميں واحد شخص تھا جس نے اس حكم پر عمل كيا اور صدقه دے كر حضور صلى الله عليه وسلم سے عليحدگى ميں بات كرنے كى درخواست كى.

ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ:  «يه تمهارے ليے بهتر بھى هے اور زياده پاكيزه بھى».

فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ:  «البته اگر تم (صدقه دينے كے ليے) كچھ نه پاؤ تو الله بهت بخشنے والا، بهت رحم كرنے والا هے».

يعنى غريب اور نادار لوگ اس حكم پر عمل نهيں بھى كر سكتے تو كوئى مضائقه نهيں، الله تعالى ان كا عذر قبول فرماتے هوئے انهيں معاف فرمائے گا. ليكن ظاهر هے جن لوگوں كى وجه سے يه حكم نازل هوا وه تو سب كے سب متموّل، مرفة الحال اور بڑے لوگ تھے جو حضور صلى الله عليه وسلم اپنى قربت جتلا كر لوگوں كے سامنے مزيد «بڑے» بننا چاهتے تھے.

UP
X
<>