April 13, 2021

قرآن کریم > الأعراف >surah 7 ayat 7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ 

پھر ہم اُن کے سامنے سارے واقعات خود اپنے علم کی بنیاد پربیان کردیں گے، (کیونکہ) ہم (ان واقعات کے وقت) کہیں غائب تو نہیں تھے

آیت 7:  فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْہِمْ بِعِلْمٍ وَّمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ:  ’’پھر ہم ان کے سامنے احوال بیان کریں گے علم کی بنیاد پر اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔‘‘

            اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ محمد رسول اللہ فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کس قدر جدوجہد کر رہے تھے اور آپ کے صحابہ کس طرح کے مشکل حالات میں آپ کا ساتھ دے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ابو جہل اور ابو لہب کی کارروائیوں کو بھی دیکھ رہا تھا کہ وہ کس کس طریقے سے حضورکو اذیتیں پہنچا رہے تھے اور اسلام کی مخالفت کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دِن ہم ان کے سامنے اپنے علم کی بنیاد پر تمام احوال بیان کردیں گے، کیونکہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو ہم وہاں سے غیر حاضر تو نہیں تھے۔ سورۃ الحدید (آیت: 4) میں اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ.  کہ وہ (اللہ) تمہارے ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہوتے ہو۔ 

UP
X
<>